کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رکابی اور پیالے کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ کنارے سے کھائے۔
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3772
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4211), أخرجه ابن ماجه (3277 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1805، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 12 (3277)، (تحفة الأشراف: 5566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/270، 300، 343، 345، 364)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا : الْغَرَّاءُ ، يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا ، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا ، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ ؟ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا ، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا ، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا ، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے ، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا : بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک ( متواضع ) بندہ بنایا ہے ، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔ 
۲؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4251), أخرجه ابن ماجه (3263 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3263)، 12 (3275)،(تحفة الأشراف: 5199 )، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح) »