حدیث نمبر: 3765
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ( اپنے چیلوں سے ) کہتا ہے : نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی ، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی ، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے : چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا ، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے : تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا “ ۔
حدیث نمبر: 3766
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَهُ حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ لِيَضَعَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، وَجَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ يَدَهُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا ، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو ، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو ، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، اور فرمایا : ” شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے ، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3767
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا : أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ ، فَلْيَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے ، اگر شروع میں ( اللہ کا نام ) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے ” بسم الله أوله وآخره “ ( اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے ) “ ۔
حدیث نمبر: 3768
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ وَكَانَ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يَأْكُلُ ، فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ ، فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ ، فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ جَدُّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ( وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ) وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا : ” اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے “ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا : ” شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: قے کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو برکت اس کے شریک ہونے سے جاتی رہی تھی پھر لوٹ آئی، گویا وہ برکت شیطان نے اپنے پیٹ میں رکھ لی تھی۔