کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ : أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ " ، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے ۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی “ ۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1846), قيس بن الربيع ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه وفي التحرير :’’ ضعيف يعتبر به في الشواهد والمتابعات ‘‘ (5573) وقال أحمد : ’’ ھو منكر،ما حدث به إلا قيس بن الربيع‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأطعمة 39 (1846)، (تحفة الأشراف: 4489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/441) (ضعیف) » (اس کے راوی قیس بن ربیع ضعیف ہیں )