کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے۔
حدیث نمبر: 3756
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ ، فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا ، فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا ، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبْ الَّذِي سَبَقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو ، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا ، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو “ ۔