حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : " أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا ، فَدَعُوهُ ، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَرَجَعَ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ : الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ ، فَتَبِعْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَدَّكَ ؟ ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا ( اور بھیج دیا ) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے ، ( یہ دیکھ کر ) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں ؟ ( علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو “ ۔