مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کی دعوت کو قبول کرنا واجب ہے، إلا یہ کہ وہاں کوئی خلاف شرع بات پائی جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5173) صحيح مسلم (1429)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/النکاح 71 (5173)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8339، 7949)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1914)، موطا امام مالک/النکاح 21(49)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 40 (2127)، النکاح 23 (2251) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3737
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، زَادَ : فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ” اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے ، اور اگر روزے سے ہو تو ( کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی ) دعا کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1429)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/37) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1429), وانظر الحديث السابق (3736)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 7537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/68، 101، 127، 146) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3739
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ وَمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی` روایت جیسی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3739
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1429), وانظر الحديث السابق (3736)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8442) »
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3740
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1430)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/النکاح 16 (1430)، (تحفة الأشراف: 2743)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 47 (1751)، مسند احمد (3/392) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابان بن طارق مجہول راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, درست ضعيف و أبان بن طارق : مجهول الحال (تق : 1825،139), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7469) (ضعیف) » (اس کے راوی درست ضعیف، اور ابان مجہول ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے صحیح ہے)
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے` سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں ، اور جو ( ولیمہ کی ) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأطعمة / حدیث: 3742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق موقوفا م مرفوعا , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5177) صحيح مسلم (1432)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/ النکاح 73 (5177)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1432)، سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1913)، (2110)، (تحفة الأشراف: 13955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240)، سنن الدارمی/الأطعمة 28(2110) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔