کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا ، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو ، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5623) صحيح مسلم (2012),
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأشربة 22 (5623)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، (تحفة الأشراف: 2446)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 74 (2857)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 16 (3410)، والأدب 46 (3771)، مسند احمد (3/355) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3732
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ ، قَالَ : فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا ، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً ، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ أَوْ بُيُوتَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے ، اس میں ہے کہ ” شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو ، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے ، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2012)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2012)، سنن الترمذی/ الأطعمة 15 (1812)، (تحفة الأشراف: 2934) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ ، قَالَ : " وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ " ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو ( اور مسدد کی روایت میں ہے : شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو ) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور ( بچوں کو ) اچک لینے کا وقت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3316) صحيح مسلم (2012)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ بدء الخلق 16 (3316)، الاستئذان 49 (6295)، سنن الترمذی/ الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ الْأَصْمَعِيُّ : تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا : کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( کوئی مضائقہ نہیں ) “ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا ؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض ( چوڑان ) میں رکھ لیتا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی نے کہا : «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5605) صحيح مسلم (2011)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الأشرابة 12 (5606)، صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2011)، (تحفة الأشراف: 2233) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَ " يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا " ، قِالَ قُتَيْبَةُ : عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا ۔ قتیبہ کہتے ہیں : سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3735
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4284)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 108) (صحیح) »