کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4277), أخرجه الترمذي (1818 وسنده صحيح) وله شواھد كثيرة
تخریج حدیث « سنن الترمذی/ الأشربة 15 (1888)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 23 (3429، 3430)، (تحفة الأشراف: 6149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 309، 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ ، وَأَكَلَ تَمْرًا ، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا ، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا : میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ” اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما ، انہیں بخش دے ، اور ان پر رحم فرما “ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2042)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 22 (2042)، سنن الترمذی/الدعوات 118 (3576)، (تحفة الأشراف: 5205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190)، سنن الدارمی/الأطعمة 2 (2065) (صحیح) »