کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَرَمَاهُ بِهِ ، وَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَقَالَ : هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے ، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا ، اور کہا : میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے ، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے ، اور فرمایا ہے : ” یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5632) صحيح مسلم (2067)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأطمعة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی33 (5303)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408)، دی/ الأشربة 25 (2176) (صحیح) »