حدیث نمبر: 3690
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا : نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ` ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی ، سبز رنگ کے برتن ، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث میں وارد الفاظ: دباء، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» سے منسوخ ہو گئی۔
حدیث نمبر: 3691
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ ؟ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، قُلْتُ : قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، قَالَ : صَدَقَ ، حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ، قُلْتُ : وَمَا الْجَرُّ ؟ ، قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن جبیر کہتے ہیں` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» ( مٹی کا گھڑا ) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا : کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے ، انہوں نے کہا : وہ سچ کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے ، میں نے کہا : «جر» کیا ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو ۔
حدیث نمبر: 3692
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : " قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ، وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ : الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْمُقَيَّرِ " ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : النَّقِيرُ : مَكَانَ الْمُقَيَّرِ ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں ، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں ، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں ، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی ، مسدد کہتے ہیں : آپ نے اللہ پر ایمان لانا ، فرمایا ، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا ، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے ، اور میں تمہیں دباء ، حنتم ، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں “ ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا ، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: حرمت والے مہینوں سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔
حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ ، وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : ” میں تمہیں لکڑی کے برتن ، تار کول ملے ہوئے برتن ، سبز لاکھی گھڑے ، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو “ ۔
حدیث نمبر: 3694
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالُوا : فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ` وفد کے لوگوں نے پوچھا : ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيدِ بْنِ عَلِيّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسَبُ عَوْفٌ ، أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ وَلَا دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ ، فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے ، کہتے ہیں` مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ نقیر ، مزفت ، دباء ، اور حنتم میں مت پیو ، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو ، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو “ ۔
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَ نَشْرَبُ ؟ ، قَالَ : لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ ، وَلَا فِي النَّقِيرِ ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ ؟ ، قَالَ : فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ : أَهْرِيقُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ ، قَالَ : وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ ، قَالَ : الطَّبْلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` وفد عبدالقیس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کس برتن میں پیئیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دباء ، مزفت اور نقیر میں مت پیو ، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں پانی ڈال دیا کرو “ وفد کے لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ( اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو ) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا : ” اسے بہا دو ۱؎ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب ، جوا ، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے “ یا یوں کہا : ” شراب ، جوا ، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ ڈھول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ” ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ” ڈھول“ سے کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3697
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْجِعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی ، سبز رنگ کے برتن ، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا ۔
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا ، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا ، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو ، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو ، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا ، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ “ ۔
وضاحت:
۱؎: ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور یہ فائدہ اس لئے بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اہل قبور سے حاجت روائی چاہنے لگیں۔
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا ، قَالَ : فَلَا إذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا : وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب ممانعت نہیں رہی “ ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ ، وَالْحَنْتَمَ ، وَالْمُزَفَّتَ ، وَالنَّقِيرَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : إِنَّهُ لَا ظُرُوفَ لَنَا ، فَقَالَ : اشْرَبُوا مَا حَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم ، مزفت ، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا : ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا جو حلال ہوا سے پیو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کے استعمال سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نشہ آور چیز سے بچو “ ۔
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی ۔