کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: شراب کا سرکہ بنانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا ؟ قَالَ : أَهْرِقْهَا ، قَالَ : أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا ؟ قَالَ : لَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے بہا دو “ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1983), مشكوة المصابيح (3649)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 2 (1983)، سنن الترمذی/البیوع 58 (1294)، (تحفة الأشراف: 1668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 180، 260)، سنن الدارمی/الأشربة 17 (2161) (صحیح) »