حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُخْتَالٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی “ ۔
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا ، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ ، قَالَ : فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا ، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا ، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا : ” تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ “ ہم نے عرض کیا : ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا ، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں پہچانا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فقرائے مہاجرین کی جماعت ! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے ، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے ، اور یہ پانچ سو برس ہو گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ایسے فقراء و مساکین کا مقام و مرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہو گا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات و احادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہو گی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہو گا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہو گا۔
حدیث نمبر: 3667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل ، وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے ، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3668
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ، قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سورة النساء آية 41 ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو “ میں نے عرض کیا : کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں ؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں “ پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» ” اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے “ ( سورة النساء : ۴۱ ) تک پڑھ کر سنایا ، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔