کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نماز میں قصر کرنے کا بیان اور اقامت کی حالت میں کتنی مدت تک قصر کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ، ان سے عاصم احول اور حصین سلمی نے ، ان سے عکرمہ نے ، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر ) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے ۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تقصير الصلاة / حدیث: 1080
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قُلْتُ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ` ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو ، دو رکعت پڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا ؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تقصير الصلاة / حدیث: 1081
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»