حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلْيَهُودِ : " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا : ” میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو “ ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا : " أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ ؟ " قَالَ : ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا ۱؎ سے فرمایا : ” میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی ، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا ، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا ، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا ، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا ، کیا تمہاری کتاب میں رجم ( زانی کو پتھر مارنے ) کا حکم ہے ؟ “ ابن صوریا نے کہا : آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
وضاحت:
۱؎: ایک یہودی عالم کا نام ہے۔