کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا ، وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ : هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! اس ( کندی ) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے “ حضرمی نے کہا : نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے ؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ( جو گزر چکی نمبر : ۳۲۴۴ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3776), انظر الحديث السابق (3244)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3244)، (تحفة الأشراف: 159) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَكَ يَمِينُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے ، کندی نے کہا : یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا : ” کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا : ” تو تیرے لیے قسم ہے “ تو حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (139)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3245)، (تحفة الأشراف: 11768) (صحیح) »