کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مدعی علیہ ذمی ہو تو اسے قسم کھلائی جائے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، قَالَ : " كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ ( مشترک ) زمین تھی ، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا ، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا : ” تم قسم کھاؤ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» ” جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں “ ( سورة آل عمران : ۷۷ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2616، 2617) صحيح مسلم (138), مشكوة المصابيح (3775), انظر الحديث السابق (3243)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ المساقاة 4 (2356)، الرہن 6 (2515، 2516)، الشہادات 19 (2266، 2267)، التفسیر 3 (4549)، الأیمان 11 (6659، 6660)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/ الإیمان 61 (138)، سنن الترمذی/ البیوع 42 (129)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 7 (2322)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح) »