کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره
تخریج حدیث « سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف والإرواء: 2656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/402) (ضعیف) » (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسی اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے )
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی سعید ( ابن ابی عروبۃ ) سے` اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3614
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (3613)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ ، فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا ، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3772), انظر الحديث السابق (3613)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 3613، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند “ ۔
وضاحت:
۱؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3616
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2329،2346), قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَحْمَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " ، قَالَ سَلَمَةُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَقَالَ : إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں ، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں “ ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں : عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أصله عند البخاري (2574) بغير ھذا اللفظ
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الشہادات 24 (2674)، (تحفة الأشراف: 14698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/317)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6001) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ ، قَالَ : فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے` اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2329), قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ »