کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42 ، فَنُسِخَتْ ، قَالَ : فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ سورة المائدة آية 48 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` آیت کریمہ «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ” جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں “ ( سورۃ المائدہ : ۴۲ ) منسوخ ہے ، اور اب یہ ارشاد ہے «فاحكم بينهم بما أنزل الله» تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے “ ( سورۃ المائدہ : ۴۸ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف: 6263) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42 ، وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 ، قَالَ : كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ أَدَّوْا إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ كَامِلَةً ، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ” جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں “ ( سورۃ المائدہ : ۴۲ )  «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ” اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو “ ( سورۃ المائدہ : ۴۲ ) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے ، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے ، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4737), داود بن الحصين عن عكرمة : منكر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 5 (4737)، (تحفة الأشراف: 6074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (حسن) »