کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنِ الْأَنْصَارِ ، أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا ، پھر اس نے ہم سے ان ( محاصل ) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے ، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا “ اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا ، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا بات ہے ؟ “ اس شخص نے عرض کیا : آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو ( محاصل ) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے ، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1833), مشكوة المصابيح (3752)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإمارة 7 (1833)، (تحفة الأشراف: 9880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/192) (صحیح) »