حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَزْرَقِ ، قَالَ : " دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ ، فَقَالَا : أَلَا رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا ؟ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ : أَنَا ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ ، وَقَالَ : مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ` کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے ، تو ان دونوں نے کہا : کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا : ہاں ، میں فیصلہ کر دوں گا ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا : ٹھہر ( عہد نبوی میں ) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ جلد بازی میں اکثر غلطی ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ " ، وقَالَ وَكِيعٌ : عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ أَبُو عَوَانَةَ : عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس ( عہدے ) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎ ، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سفارشیں کرائے گا۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ نَسْتَعْمِلَ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے “ ۔