کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ ، فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر اونٹنی نے رات میں باغ کو نقصان پہنچایا ہے تو اونٹنی کا مالک اس نقصان کو پورا کرے گا، اور اگر دن میں نقصان پہنچائے تو باغ کا مالک اس نقصان کو برداشت کرے، کیونکہ باغ کی حفاظت خود اسی کی اپنی ذمہ داری تھی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزھري مدلس (تقدم : 145) وعنعن, وانظر الحديث الآتي (3570), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأحکام 13 (2332)، (تحفة الأشراف: 1753، 2332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/436)، موطا امام مالک/الأقضیة 28(37) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الَأوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الَأنْصَارِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِب ، قَالَ : كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِبَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا ، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِط بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَة بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَة مَا أَصَابَتْ مَاشيِتهُمْ بِاللَّيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی ، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا ، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا : ” دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے ، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے “ ۔ ( اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا ) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2332), وانظر الحديث السابق (3569), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1753) (صحیح) »