کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔
حدیث نمبر: 3567
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمِهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ ، قَالَ : فَضَرَبَتْ بِيَدِهَا ، فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ ، وَيَقُولُ : غَارَتْ أُمُّكُمْ " ، زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَتُهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى لَفْظِ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ ، قَالَ : كُلُوا ، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا ، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ ، وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے ، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا ، تو اس بیوی نے ( جس کے گھر میں آپ تھے ) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا ( وہ دو ٹکڑے ہو گیا ) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی ، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے : ” تمہاری ماں کو غیرت آ گئی “ ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے ( کہ آپ نے فرمایا : ” کھاؤ “ تو لوگ کھانے لگے ، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا ( اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ “ اور خادم کو ( جو کھانا لے کر آیا تھا ) اور پیالے کو روکے رکھا ، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا ( کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا ( جس میں آپ قیام فرما تھے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2481)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المظالم 34 (2481)، والنکاح 107 (5225)، سنن الترمذی/الأحکام 23 (1359)، سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3407)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 14 (2334)، (تحفة الأشراف: 633، 800)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/105، 263)، سنن الدارمی/البیوع 58 (2640) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3568
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَبَعَثَتْ بِهِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ ؟ ، قَالَ : إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ ، وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا ( اچھا ) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا ، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا ( اس وقت آپ میرے یہاں تھے ) میں غصہ سے کانپنے لگی ( کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے ) تو میں نے ( وہ ) برتن توڑ دیا ( جس میں کھانا آیا تھا ) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (3409 وسنده حسن) جسرة بنت دجاجة مختلف فيھا وحديثھا حسن علي الراجح
تخریج حدیث « سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3409)، (تحفة الأشراف: 17827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/148، 277) (ضعیف) » اس کی روایہ جسرة لین الحدیث ہیں ، صحیح یہ ہے کہ کھانا بھیجنے والی ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں جیسا کہ نسائی کی ایک صحیح روایت (نمبر 3408) میں ہے )