حدیث نمبر: 3561
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ ، ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ ، فَقَالَ هُوَ : أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے “ پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے ( اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان ( معاوضہ و بدلہ ) نہ ہو گا ۔
حدیث نمبر: 3562
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيب ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَقَالَ : أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : لَا ، بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ ، بِبَغْدَادَ ، وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے : اے محمد ! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں ، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ۱؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے ۔
وضاحت:
۱؎: واسط عراق کا ایک مشہور شہر ہے۔
حدیث نمبر: 3563
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا صَفْوَانُ ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلَاحٍ ؟ قَالَ : عَارِيَةً ، أَمْ غَصْبًا ؟ قَالَ : لَا بَلْ عَارِيَةً ، فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ ، فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ : إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا ، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ ؟ قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّه ، لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ، ثُمَّ أَسْلَمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے صفوان ! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں ؟ “ انہوں نے کہا : عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زبردستی نہیں عاریۃً “ چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی ، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صفوان ! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں ، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول ! آج میرے دل میں جو بات ہے ( جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں ) وہ بات اس وقت نہ تھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے ( تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا ؟ ) ۔
حدیث نمبر: 3564
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ ، قَالَ : اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی آل صفوان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زرہیں عاریۃً لیں ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الطَّعَامَ ، قَالَ : ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ، ثُمَّ قَالَ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے ، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہ دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز ، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا ، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے “ ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُصْفُرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَارِيَةً مَضْمُونَةٌ ، أَوْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : بَلْ مُؤَدَّاةٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : حَبَّانُ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا “ میں نے کہا : کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «أعارية مضمونة» یہ ہے کہ اگر وہ چیز ضائع ہو جائے گی تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی، اور «أعارية مؤداة» یہ ہے کہ اگر چیز بعینہٖ موجود ہے تو اسے واپس دینا ہو گا، اور اگر وہ چیز ضائع ہو گئی تو قیمت ادا کرنے کی ذمہ داری نہ ہو گی۔