کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔
حدیث نمبر: 3558
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا ، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے ، اور رقبیٰ ۱؎ ( بھی ) اسی کے اہل کا حق ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کہنا کہ میں پہلے مرا تو یہ چیز تیری ہو گی اور تو پہلے مرا تو یہ میری ہو گی، ایسی شرط بیکار ہو جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3014), أبو الزبير صرح بالسماع في الرواية الطويلة وللحديث شواھد
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأحکام 16 (1351)، سنن النسائی/العمری (3769)، سنن ابن ماجہ/الھبات 4 (2383)، (تحفة الأشراف: 2705)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الھبات 4 (1626)، مسند احمد (3/302، 303، 312) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3559
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ ، وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا ، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی “ ۔ اور فرمایا : ” رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی “ ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (2381 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الرقبی 1 (3746)، سنن ابن ماجہ/الہبات 3 (2381)، (تحفة الأشراف: 3700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250) (حسن صحیح الإسناد) »
حدیث نمبر: 3560
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : " الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ : فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ ، وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ : الْإِنْسَانُ هُوَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد کہتے ہیں : عمری یہ ہے کہ` کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے ، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی ، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: میں پہلے مر گیا تو یہ تم پاس ہے اور رہے گی اور تم پہلے مر گئے اور میں بچا تو وہ چیز میرے پاس واپس آ جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19271) (صحیح الإسناد) »