کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: کام نکالنے کے لیے ہدیہ دینا اور کام نکال دینے پر لینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3541
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ شَفَعَ لِأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا ، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور کی اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ کسی کے حق میں اچھی سفارش یہ مندوب اور مستحسن چیز ہے، اور بسا اوقات سفارش ضروری اور لازمی ہو جاتی ہے ایسی صورت میں اس کا بدل لینا مستحسن چیز کو ضائع کر دینے کے مترادف ہے جس طرح سود سے حلال چیز ضائع ہو جاتی ہے۔