حدیث نمبر: 3538
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، وَهَمَّامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " قَالَ هَمَّامٌ : وَقَالَ قَتَادَةُ : وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے “ ۔ ہمام کہتے ہیں : اور قتادہ نے ( یہ بھی ) کہا : ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں ( تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا ) ۔
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا ، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے ، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے ، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎ ، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر ( یا ہبہ کر کے ) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے ، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے ، پھر قے کرتا ہے ، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
حدیث نمبر: 3540
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ ، فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ، ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے ، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے ، ( اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو ) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے “ ۔