کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: شفعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شفعہ ۱؎ ہر مشترک چیز میں ہے ، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری ، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے ، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کر سکے۔
۲؎: اگر شریک لینے کا خواہش مند ہے تو مشتری نے جتنی قیمت دی ہے، وہ قیمت دے کر لے لے، مشتری کے پیسے واپس ہو جائیں گے، لیکن اگر اس نے آگاہ کر دیا، اور شریک لینے کا خواہش مند نہیں ہے، تو جس کے ہاتھ بھی چاہے بیچے حق شفغہ باقی نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1608)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساقاة 28 (1608)، سنن النسائی/البیوع 78 (4650)، (تحفة الأشراف: 2806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/312، 316، 357، 397)، سنن الدارمی/البیوع 83 (2670) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے ، جو تقسیم نہ ہوئی ہو ، لیکن جب حد بندیاں ہو گئی ہوں ، اور راستے الگ الگ نکا ل دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6976)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 96 (2213)، 97 (2214)، الشفعة 1 (2257)، الشرکة 8 (2495)، الحیل 14 (6976)، سنن الترمذی/الأحکام 33 (1370)، سنن ابن ماجہ/الشفعة 3 (2497)، (تحفة الأشراف: 3153)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/372، 399) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَن الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَوْ عَنْهُمَا جَمِيعًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُسِّمَتِ الْأَرْضُ وَحُدَّتْ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زمین کا بٹوارہ ہو چکا ہو اور ہر ایک کی حد بندی کر دی گئی ہو تو پھر اس میں شفعہ نہیں رہا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, الحديث السابق (3514) شاھد له
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15213، 13201)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2497) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6977)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل 14 (6977)، 15 (6978)، سنن النسائی/البیوع 107 (4706)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 87 (2498)، (تحفة الأشراف: 12027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389،390، 6/10) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأحکام 31 (1368)، (تحفة الأشراف: 4588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 13، 18) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے ، اگر وہ موجود نہ ہو گا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا ، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2967)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأحکام 32 (1369)، سنن ابن ماجہ/الشفعة 2 (2494)، (تحفة الأشراف: 2434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/303)، سنن الدارمی/ البیوع 83 (2669) (صحیح) »