کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الْأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلَافٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، قَالَ الْأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن اشعث کہتے ہیں` اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے ، اشعث نے کہا : آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) دونوں کے درمیان ( قیمت میں ) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی ، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: خریدار اور بیچنے والے کے مابین قیمت کی تعیین و تحدید میں اگر اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے، اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ خریدار بھی قسم کھا کر یہ کہے کہ میں نے یہ سامان اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں خریدا ہے، پھر بیع فسخ کر دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ،حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ` ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک غلام اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچا ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی ۔