کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہو گا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ ، قَال : " كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ ، وَبَعْضُنَا غَائِبٌ فَأَغَلَّ عَلَيَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثْتُهُ ، فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَحَدَّثَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´( مخلد بن خفاف ) غفاری کہتے ہیں` میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا ، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا ، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں ، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا ، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا : ” منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: عروہ نے اس حصہ دار سے یہ حدیث اس لئے بیان کی تاکہ وہ مخلد سے غلہ نہ لے کیونکہ غلام اس وقت مخلد کے ضمان میں تھا اس لئے اس کی کمائی کے مستحق بھی تنہا وہی ہوئے۔
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ، ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` ایک شخص نے ایک غلام خریدا ، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا ، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا ، تو بائع کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خراج ( منافع ) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ سند ویسی ( قوی ) نہیں ہے ( جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے )