کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بیعانہ کا حکم۔
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ " ، قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : أُعْطِيكَ دِينَارًا عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ السِّلْعَةَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے ۔ امام مالک کہتے ہیں : جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں ، اور اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بیچنے والے یا کرایہ دینے والے سے کہے کہ میں تجھے ( مثلاً ) ایک دینار اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے یہ سامان یا کرایہ کی سواری نہیں لی تو یہ جو ( دینار ) تجھے دے چکا ہوں تیرا ہو جائے گا ( اور اگر لے لیا تو یہ دینار قیمت یا کرایہ میں کٹ جائے گا ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2864), رواه البيھقي (5/343 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/التجارات 22 (2192)، (تحفة الأشراف: 8820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع 1 (1)، مسند احمد (2/183) (ضعیف) » (اس کی سند میں انقطاع ہے ، یہ امام مالک کی بلاغات میں سے ہے)