کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3492
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم ہر بیچی جانے والی شے کے لئے عام ہے لہٰذا خریدی گئی چیز میں اس وقت تک کسی طرح کا تصرف جائز نہیں جب تک کہ اسے پورے طور سے قبضہ میں نہ لے لیا جائے یا جہاں خریدا ہے وہاں سے اسے منتقل نہ کر لیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2136) صحيح مسلم (1526)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 51 (2126)، 54 (2133)، 55 (2136)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1526)، سنن النسائی/البیوع 53 (4599)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2226)، (تحفة الأشراف: 8327)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 19 (40)، مسند احمد (1/56، 63، 2/23، 46، 59، 64، 73، 79، 108، 111، 113)، سنن الدارمی/البیوع 26 (2602) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3493
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ ، قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ " يَعْنِي جُزَافًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے ، تو آپ ہمارے پاس ( کسی شخص کو ) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1527), ورواه البخاري (2123)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البیوع 8 (1527)، سنن النسائی/البیوع 55 (4609)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2229)، (تحفة الأشراف: 8371)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 54 (2131)، 56 (2137)، 72 (2166)، موطا امام مالک/البیوع 19 (42)، مسند احمد (1/56، 112، 2/7، 15، 21، 40، 53، 142، 150، 157) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3494
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ” لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے ( ڈھیر کے ڈھیر ) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کر لیں “ ( تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہو جائے پھر بیچے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3494
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1526), مشكوة المصابيح (2843), انظر الحديث السابق (3493)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ البیوع 72 (2167)، سنن النسائی/ البیوع 55 (4610)، (تحفة الأشراف: 8154)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/15، 21) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو ، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4608), منذر بن عبيد و ثقه ابن حبان وحده, والحديث الآتي (الأصل : 3492) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج حدیث « سنن النسائی/ البیوع 54 (4608)، (تحفة الأشراف: 7375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/111) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ " ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرَجًّى ؟ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے “ ۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیوں ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلا: ایک آدمی نے سو روپیہ کسی کو غلہ کے لئے دیئے اور غلہ اپنے قبضہ میں نہیں لیا، پھر اس کو کسی اور سے ایک سو بیس روپیہ میں بیچ دیا جبکہ غلہ ابھی کسان یا فروخت کرنے والے کے ہاتھ ہی میں ہے، تو گویا اس نے سو روپیہ کو ایک سو بیس روپیہ میں بیچا اور یہ سود ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1525), ورواه البخاري (2132)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 54 (2132)، 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن النسائی/البیوع 53 (4601)، (تحفة الأشراف: 5707)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 221، 251، 270، 285، 356، 357، 368، 369) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3497
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَهَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ ، حَتَّى يَقْبِضَهُ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ : حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ، زَادَ مُسَدَّدٌ قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی گیہوں خریدے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ کر لے ، نہ بیچے “ ۔ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں ( «حتى يقبضه» کے بجائے ) «حتى يستوفيه» روایت کیا ہے ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں سمجھتا ہوں کہ گیہوں کی طرح ہر چیز کا حکم ہے ( جو چیز بھی کوئی خریدے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مؤلف کی اگلی مرفوع حدیث نمبر (۳۴۹۹) اسی عموم پر دلالت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3497
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2135) صحيح مسلم (1525)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ البیوع 55 (2135)، صحیح مسلم/ البیوع 8 (1525)، سنن الترمذی/ البیوع 56 (1291)، سنن النسائی/ البیوع 53 (4602)، سنن ابن ماجہ/ التجارات 37 (2227)، (تحفة الأشراف: 5736)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 221، 270، 285) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3498
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا الطَّعَامَ جُزَافًا ، أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ إِلَى رَحْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ، میں نے لوگوں کو مار کھاتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎ جب وہ گیہوں کے ڈھیر بغیر تولے اندازے سے خریدتے اور اپنے مکانوں پر لے جانے سے پہلے بیچ ڈالتے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ قبضہ میں لے کر بیچنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3498
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6852) صحيح مسلم (1527)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ المحاربین 29 (6852)، صحیح مسلم/ البیوع 8 (1527)، سنن النسائی/ البیوع 55 (4612)، (تحفة الأشراف: 6933)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 150) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3499
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي ، لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میں نے بازار میں تیل خریدا ، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کر لیا ، تو مجھے ایک شخص ملا ، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا ، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کر لوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے کہا : جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے ، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3499
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/191)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: 2724)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/191) (حسن) »