کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: چارہ روکنے کے لیے پانی کو روکنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3473
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پلانے کے لیے لوگ پانی نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لئے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (2353) ومسلم (1566)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12357)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 2 (2353)، صحیح مسلم/المساقاة 8 (1566)، سنن الترمذی/البیوع 45 (1272)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 19 (2428)، موطا امام مالک/الأقضیة 25 (29) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، يَعْنِي كَاذِبًا ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا : ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے ، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے ، تیسرا وہ شخص جو کسی امام ( و سربراہ ) سے ( وفاداری کی ) بیعت کرے پھر اگر امام اسے ( دنیاوی مال و جاہ ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے ، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2672) صحيح مسلم (108)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، (تحفة الأشراف: 12472)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشھادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، المساقاة 10 (2369)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، سنن النسائی/البیوع 6 (4467)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، الجھاد 42 (2870)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ : وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، وَقَالَ فِي السِّلْعَةِ : بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا ، فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ فَأَخَذَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا “ اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے : قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے ، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے ( منہ مانگا پیسہ دے کر ) لے لے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2672) صحيح مسلم (108)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الشہادات 22 (2672)، صحیح مسلم/ الإیمان 46 (108)، سنن النسائی/ البیوع 6 (4467)، (تحفة الأشراف: 12338) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : بُهَيْسَةُ ،عَنْ أَبِيهَا ، قَالَتْ : " اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : الْمَاءُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : الْمِلْحُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ` میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، ( اجازت ملی ) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی “ پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نمک “ پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جتنی بھی تو نیکی کرے ( یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے ) تیرے لیے بہتر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق نحوه (1669), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1669)، (تحفة الأشراف: 15697) (ضعیف) » (اس کے راوی ، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُئِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ . ح ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، أَسْمَعُهُ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْكَلَإِ ، وَالْمَاءِ ، وَالنَّار " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا : ” مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں ( یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ) : ( ا ) پانی ( نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو ) ، ( ۲ ) گھاس ( جو لاوارث زمین میں ہو ) اور ( ۳ ) آگ ( جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3001)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (5/314) (صحیح) »