حدیث نمبر: 3467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ ، فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ ؟ ثُمَّ قَالَ : لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی ، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا : ” تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو ؟ اس کا مال اسے لوٹا دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو “ ۔