حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ ، فَقَالَ : بَلْ أَدْعُو ، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ ، فَقَالَ : بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ ، وَيَرْفَعُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نرخ مقرر فرما دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا ) البتہ دعا کروں گا “ ( کہ غلہ سستا ہو جائے ) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا : اللہ کے رسول ! نرخ متعین فرما دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: بھاؤ مقرر کر دینے میں کسی کا فائدہ اور کسی کا گھاٹا ہو سکتا ہے تو گھاٹے والا میرا دامن گیر ہو سکتا ہے کہ میری وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ ، وَقَتَادَةُ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ النَّاسُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلَا السِّعْرُ ، فَسَعِّرْ لَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ ، الْبَاسِطُ ، الرَّازِقُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ ( کوئی مناسب ) نرخ مقرر فرما دیجئیے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے ، ( میں نہیں ) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا ، روزی مہیا کرنے والا ہے ، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں ، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو ( اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں ) “ ۔