حدیث نمبر: 3394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ خَدِيجٍ ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا حَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ أَيُّوبُ ، وَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ ، وَ مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا ، فَقَالَ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَكَذَا . قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ : عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو النَّجَاشِيِّ : عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے ، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے ، اور کہنے لگے : ابن خدیج ! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں ؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا : میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے ، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے ، عبداللہ بن عمر نے کہا : قسم اللہ کی ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی ، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو ، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب ، عبیداللہ ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، رافع کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے ، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں ۔
حدیث نمبر: 3395
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا ، وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا ، وَأَنْفَعُ ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا ذَاكَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ ، وَلَا بِرُبُعٍ ، وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( بٹائی پر ) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو ( ایک بار ) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا ، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے ، ہم نے کہا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے ، یا ( اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو ) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے “ ۔
حدیث نمبر: 3396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایوب کہتے ہیں : یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ` میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے ۔
حدیث نمبر: 3397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَنَا أَبُو رَافِعٍ ، مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ رَقَبَتَهَا ، أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا ، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں ( بلامعاوضہ و شرط ) دیدے ۔
حدیث نمبر: 3398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا ، وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ ، وَقَالَ : مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ ، وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ ،عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : أُسَيْدٌ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن ظہیر کہتے ہیں` ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا ، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو ( مفت ) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں : اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا ، وَغُلَامًا لَهُ ، إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُ شَيْءٌ بَلَغَنَا عَنْكَ فِي الْمُزَارَعَةِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا حَتَّى بَلَغَهُ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى بَنِي حَارِثَةَ ، فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ ، فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ ، قَالُوا : لَيْسَ لِظُهَيْرٍ ، قَالَ : أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ ؟ ، قَالُوا : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ . قَالَ : فَخُذُوا زَرْعَكُمْ ، وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ " ، قَالَ رَافِعٌ : فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا ، وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَفْقِرْ أَخَاكَ أَوْ أَكْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجعفر خطمی کہتے ہیں` میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا ، تو ہم نے ان سے کہا : مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے ، انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ ( براہ راست ) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے ، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی ، تو فرمایا : ” ( ماشاء اللہ ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے “ لوگوں نے کہا : یہ ظہیر کی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو “ رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( یہ سن کر ) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ ( اخراجات و محنتانہ ) اسے دے دیا ۔ سعید بن مسیب نے کہا : ( اب دو صورتیں ہیں ) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو ( اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو ) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو ( یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو ) ۔
حدیث نمبر: 3400
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا ، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا : ” زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے ، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے ، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا۔
حدیث نمبر: 3401
قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ ، قُلْتُ لَهُ : حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ ، فَقَالَ : أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ ، فَقَالَ : دَعْهُ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں` میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا ، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے ، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا : اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3402
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا ، " فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا ، فَسَأَلَهُ ، لِمَنِ الزَّرْعُ ، وَلِمَنِ الْأَرْضُ ؟ ، فَقَالَ : زَرْعِي بِبَذْرِي ، وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ ، وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ ، فَقَالَ : أَرْبَيْتُمَا ، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ` مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی ؟ “ تو انہوں کہا : میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو ، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو “ ۔