کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3389
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : مَا كُنَّا نَرَى بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا ، حَتَّى سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، فَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ ، فَقَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا ، وَلَكِنْ قَالَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ` ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول ( لگان ) لگا کر دینے سے بہتر ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کی جائز شکل یہ ہے کہ مالک اور بٹائی پر لینے والے کے مابین زمین سے حاصل ہونے والے غلہ کی مقدار اس طرح متعین ہو کہ ان دونوں کے مابین جھگڑے کی نوبت نہ آئے اور غلہ سے متعلق نقصان اور فائدہ میں طے شدہ امر کے مطابق دونوں شریک ہوں یا روپے پیسے کے عوض زمین بٹائی پر دی جائے اور مزارعت کی وہ شکل جو شرعاً ناجائز ہے وہ حنظلہ بن قیس کی حدیث نمبر (۳۳۹۲) میں مذکور ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3389
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1547)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الحرث والمزارعة 10 (2330)، الہبة 35 (2634)، صحیح مسلم/البیوع 21 (1547)، سنن النسائی/ المزارعة 2 (3927، 3928) سنن ابن ماجہ/الرھون 7 (2450)، (تحفة الأشراف: 5735، 3566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 2/11، 463، 465، 4/142) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3390
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ ، إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ ، قَالَ مُسَدَّدٌ : مِنِ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ اتَّفَقَنا ، قَدِ اقْتَتَلَا ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ ، فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ " . زَادَ مُسَدَّدٌ ، فَسَمِعَ قَوْلَهُ : " لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ` زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے ، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو “ ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (3959 وسنده حسن) وابن ماجه (2461 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/ المزارعة 3 (3959)، سنن ابن ماجہ/الرھون 10 (2461)، (تحفة الأشراف: 3730)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 187) (ضعیف) » ( اس کے راوی ابوعبیدہ اور ولید بن ابی الولید لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ابن ماجہ کی حدیث پر صحیح کا حکم ہے تفصیل مذکورہ حدیث نمبر پر ملاحظہ فرمائیں
حدیث نمبر: 3391
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنِ الزَّرْعِ ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (3925), محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة ضعفه الجمھور و قال الحافظ ابن حجر : ضعيف كثير الإرسال (تق: 4080), وحديث رافع بن خديج (الأصل : 3395) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
تخریج حدیث « سنن النسائی/ المزارعة 2 (3925)، (تحفة الأشراف: 3860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/178، 182)، دی/ البیوع 75 (2660) (حسن) »
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ ، فَيَهْلَكُ هَذَا ، وَيَسْلَمُ هَذَا ، وَيَسْلَمُ هَذَا ، وَيَهْلَكُ هَذَا ، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا ، فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ " . وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ : عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ رَافِعٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں` میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں ، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا ، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2346، 2347) صحيح مسلم (1547 بعد ح1548)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 13 (2333)، 19 (2346)، الشروط 7 (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3930، 3931، 3932، 3933)، سنن ابن ماجہ/الرھون 9 (2458)، (تحفة الأشراف: 3553)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/463، 4/140، 142) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ،فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ، فَقُلْتُ : أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ` انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر ( کھیتی کے لیے ) دینے سے منع فرمایا ہے ، تو میں نے پوچھا : سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو ؟ تو انہوں نے کہا : رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1547)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3553) (صحیح) »