کتب حدیث ›
سنن ابي داود › ابواب
› باب: آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ ، فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ ، قَالُوا : وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْجَبَلُ ، فَقَالَ : " كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ ، قَالَ : وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ ، فَثَمَّرْتُهُ لَهُ حَتَّى جَمَعْتُ لَهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا ، فَلَقِيَنِي ، فَقَالَ : أَعْطِنِي حَقِّي ، فَقُلْتُ : اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص ایک فرق ۱؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہو جائے “ لوگوں نے پوچھا : ایک فرق چاول والا کون ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا ، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی ، اور چلا گیا ، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا ، ( بویا اور بڑھایا ) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے ، پھر وہ مجھے ملا اور کہا : مجھے میرا حق ( مزدوری ) دے دو ، میں نے اس سے کہا : ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا “ ۔
وضاحت:
۱؎: فرق: سولہ (۱۶) رطل کا ایک پیمانہ ہے۔