کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مضارب (وکیل) ایسا تصرف کرے جس سے مالک کو فائدہ ہو۔
حدیث نمبر: 3384
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ، قَالَ : " أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً أَوْ شَاةً ، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں ، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی ، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے ۔
وضاحت:
۱؎: مضاربت ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں ایک آدمی کا پیسہ ہو اور دوسرے کی محنت، پیسے والے کو مضارَب اور محنت والے کو مضارِب کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3642)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المناقب 28 (3642)، سنن الترمذی/البیوع 34 (1258)، سنن ابن ماجہ/الاحکام 7 (2402)، (تحفة الأشراف: 9898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375، 376) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3385
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عروہ بارقی سے` یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3385
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9898) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً ، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں ، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1257), شيخ من أھل المدينة : لعله حبيب بن أبي ثابت كما في سنن ا لترمذي (1257) وھو مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3438)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 34 (1257) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی شیخ من أہل المدینہ مبہم ہیں )