کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بیع صرف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3348
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو “ ( نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے،اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2174) صحيح مسلم (1586)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، سنن ابن ماجہ/التجارات 50 (2260، 2259)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3349
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ ، وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، بِإِسْنَادِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو ، ڈلی ہو یا سکہ ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو ، ایک مد ایک مد کے بدلے میں ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا ، سود لیا ، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں ، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مد: شام اور مصر کا ایک پیمانہ ہے، جو پندرہ مکوک کا ہوتا ہے، اور مکوک ڈیڑھ صاع کا ہوتا ہے۔
۲؎: حاصل یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3349
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (3350)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساقاة 15 (1587)، سنن الترمذی/ البیوع (1240)، سنن النسائی/البیوع 42 (4567)، سنن ابن ماجہ/التجارات 48 (2254)، (تحفة الأشراف: 5089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 320) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3350
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ،عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ ، وَزَادَ ، قَالَ : فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے ، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے ( قسم مختلف ہو جائے ) تو جس طرح چاہو بیچو ( مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں ) جب کہ وہ نقدا نقد ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب البيوع / حدیث: 3350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1587)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5089) (صحیح) »