حدیث نمبر: 3346
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا ، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ ، فَقُلْتُ : لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَعْطِهِ إِيَّاهُ ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں ، میں نے ( آ کر ) عرض کیا : مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے ، بڑے اور چھ برس کے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اسی کو دے دو ، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں “ ۔
حدیث نمبر: 3347
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا ، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔