حدیث نمبر: 3334
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ ، لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ، قَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا : آپ فرما رہے تھے : ” سنو ! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے ( نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے ) سن لو ! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں ، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب ۱؎ کا خون ہے “ وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ ” لوگوں نے تین بار کہا : ہاں ( آپ نے پہنچا دیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” اے اللہ ! تو گواہ رہ “ ۔
وضاحت:
۱؎: حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔