حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، وَلَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ ، وَأَحْيَانًا يَقُولُ مُشْتَبِهَةٌ ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا ، إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَهُ ، وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” حلال واضح ہے ، اور حرام واضح ہے ، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ( جن کی حلت و حرمت میں شک ہے ) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ، اللہ نے ( اپنے لیے ) محفوظ جگہ ( چراگاہ ) بنائی ہے ، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں ( یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا ، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے “ ۔
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے : ” ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا ، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا “ ۔
حدیث نمبر: 3331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا ، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ " ، قَالَ ابْنُ عِيسَى : أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎ “ ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے ، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر ظاہر ہو کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 3332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ ، فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ ، فَأَكَلُوا ، فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا ، فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً ، فَلَمْ أَجِدْ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا بِثَمَنِهَا ، فَلَمْ يُوجَدْ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطْعِمِيهِ الْأَسَارَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک انصاری کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے : ” پیروں کی جانب سے ( قبر ) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو “ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے فراغت پا کر ) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے یہاں ) آئے اور کھانا لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا ( کھانا شروع کیا ) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے “ پھر عورت نے کہلا بھیجا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو ، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو ( اتفاق سے ) وہ ہمسایہ ( گھر پر ) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
وضاحت ۱؎: چونکہ بکری، صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کر ڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا۔