کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نذر پوری کرنے کی تاکید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3312
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : " أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ ، قَالَ : أَوْفِي بِنَذْرِكِ ، قَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : لِصَنَمٍ ؟ ، قَالَتْ : لَا ، قَالَ : لِوَثَنٍ ؟ ، قَالَتْ : لَا ، قَالَ : أَوْفِي بِنَذْرِكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( بجا کر ) اپنی نذر پوری کر لو “ اس نے کہا : میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر ( بھی ) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا کسی صنم ( بت ) کے لیے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، پوچھا : ” کسی وثن ( بت ) کے لیے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کر لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3438)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8756) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 3313
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : " نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِن أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3437، 3438)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2065) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3314
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ ، قَالَتْ : " خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حِجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْتُ النَّاسَ ، يَقُولُونَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ : الطَّبْطَبِيَّةَ ، الطَّبْطَبِيَّةَ ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي ، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ ، قَالَتْ : فَأَقَرَّ لَهُ ، وَوَقَفَ ، فَاسْتَمَعَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ ، أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : خَمْسِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ بِهَا مِنَ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ ، قَالَتْ : فَجَمَعَهَا ، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي ، فَظَفِرَهَا ، فَذَبَحَهَا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ` میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں ، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا ، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا : شن شن ( درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے ) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور ( جا کر ) آپ کے قدم پکڑ لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا ، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں ، پھر انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا وہاں کوئی بت بھی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو “ انہوں نے ( بکریاں ) اکٹھا کیں ، اور انہیں ذبح کرنے لگے ، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, انظر الحديث السابق (2103), و حديث الأصل (3315) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120
تخریج حدیث « انظر حدیث (2103)، (تحفة الأشراف: 18091) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ،عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهَا ، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ ، قَالَ : هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ ، وَمَشْيٌ ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ ، وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : أَنَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے` اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا : ” کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، میں نے کہا : یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے ، اور پیدل حج کرنا ہے ، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں ؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے : کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں ؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3315
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ (صحیح) »