کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، أَوْ قَالَ : إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ يَمِينِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو ان شاءاللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی “ یا کہا : ” میں اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3276
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6623) صحيح مسلم (1649)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الخمس 15 (3133)، المغازي 74 (4385)، الصید 26 (5517)، الأیمان 1 (6621)، 4 (6649)، 18 (6680)، کفارات الأیمان 9 (6718)، 10 (6719)، التوحید 56 (7555)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن النسائی/الأیمان 14 (3811)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2107)، (تحفة الأشراف: 9122)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/398، 401، 404، 418) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِيَ ابْنَ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ "قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبدالرحمٰن بن سمرہ ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6722) صحيح مسلم (1652)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأیمان 1 (6622)، کفارات الأیمان 10 (6722)، الأحکام 5 (7146)، 6 (7147)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/الأیمان 5 (1529)، سنن النسائی/ آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، دی/ النذور 9 (3291) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، نَحْوَهُ . قَالَ : فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ رُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْحِنْثُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے` اس میں ہے : ” تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوموسی اشعری ، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں «الكفارة قبل الحنث» ہے اور بعض میں «الحنث قبل الكفارة» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1652)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9695) (صحیح) »