مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: محرم مر جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ ، وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : خَمْسُ سُنَنٍ كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، أَيْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، أَيْ إِنَّ فِي الْغَسَلَاتِ كُلِّهَا سِدْرًا ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا ، وہ حالت احرام میں تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اس کے دونوں کپڑوں ( تہبند اور چادر ) ہی میں دفناؤ ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو ، اس کا سر مت ڈھانپو ، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں : ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا ۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے ۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس ( محرم ) کا سر نہ ڈھانپو ۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قرض کی ادائیگی ثلث وصیت کی تنفیذ، اور وراثت کی تقسیم کفن دفن کے بعد بچے ہوئے مال سے ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1267) صحيح مسلم (1206)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الجنائز 19 (1265)، 21 (1267)، جزاء الصید 20 (1849)، 21 (1850)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن الترمذی/الحج 105 (951)، سنن النسائی/الجنائز 41 (1905)، المناسک 47 (2714)، 97 (2856)، 101 (2861)، سنن ابن ماجہ/المناسک 89 (3084)، (تحفة الأشراف: 5582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 266، 286)، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3239
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى ، قَالَا :حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ ، قَالَ : وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَ أَيُّوبُ : ثَوْبَيْهِ ، وَقَالَ عَمْرٌو : ثَوْبَيْنِ ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : قَالَ أَيُّوبُ : فِي ثَوْبَيْنِ ، وَقَالَ عَمْرٌو : فِي ثَوْبَيْهِ ، زَادَ سُلَيْمَانُ وَحْدَهُ : وَلَا تُحَنِّطُوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ` اسے دو کپڑوں میں کفناؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سلیمان نے کہا ہے کہ ایوب کی روایت میں «ثوبين» کے بجائے «ثوبيه» ( اسی کے دونوں کپڑے میں ) ہے اور عمرو نے «ثوبين» کا لفظ نقل کیا ہے ۔ ابو عبید نے کہا کہ ایوب نے «في ثوبين» اور عمرو نے «في ثوبيه» کہا ہے ، اور تنہا سلیمان نے «ولا تحنطوه» ( اسے خوشبو نہ لگاؤ ) کا اضافہ کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1849) صحيح مسلم (1206)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5437، 5582) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3240
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ : فِي ثَوْبَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے` اس میں «في ثوبين» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديثين السابقين (3238، 3239)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (3238)، (تحفة الأشراف: 5582) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3241
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ ، فَقَتَلَتْهُ ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں` ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا ، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے غسل دو اور کفن پہناؤ ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3241
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1839)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (3238)، (تحفة الأشراف: 5497) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔