مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: میت کی اچھائیوں اور خوبیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3233
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «وجبت» ” جنت اس کا حق بن گئی “ پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : «وجبت» ” دوزخ اس کے گلے پڑ گئی “ پھر فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج « سنن النسائی/الجنائز 50 (1935)، (تحفة الأشراف: 13538)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491)، مسند احمد (2/261، 466، 470، 499، 528) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔