مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کسی ضرورت سے مردے کو قبر سے نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3232
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ ، فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ ، فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ ، فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا ، إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3110) (صحیح الإسناد) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔