مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3228
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتَحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا ، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (971)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12638)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز 33 (971)، سنن النسائی/الجنائز 105 (2046)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 45 (1566)، مسند احمد (2/311، 389، 444، 528) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3229
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبروں پر نہ بیٹھو ، اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (972)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 33 (972)، سنن الترمذی/الجنائز 57 (1050)، سنن النسائی/القبلة 11 (761)، (تحفة الأشراف: 11169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/135) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔