مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: قبر پر عمارت بنانا۔
حدیث نمبر: 3225
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ ، وَأَنْ يُقَصَّصَ ، وَيُبْنَى عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎ ، اسے پختہ بنانے ، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: قبر پر بیٹھنے سے مراد حاجت کے لئے بیٹھنا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مطلق بیٹھنا مراد ہے کیونکہ اس میں صاحب قبر کا استخفاف ہے۔
۲؎: قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے اور قبر کو مزین کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے اگر ایک طرف فضول خرچی ہے تو دوسری جانب اس سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، کیونکہ قبروں پر بنائے گئے قبے اور مشاہد شرک کے مظاہر و علامات میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (970)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن النسائی/الجنائز 96 (2029)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562)، مسند احمد (3/295، 332، 399) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3226
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ عُثْمَانُ : أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَوْ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ : أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ حَرْفُ وَأَنْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے ،` ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے ( بھی منع فرماتے تھے ) ۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے : ” یا اس پر کچھ لکھنے سے ۱؎ “ مسدد نے اپنی روایت میں : «أو يزاد عليه» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی روایت میں مجھے حرف «وأن» کا پتہ نہ لگا ۔
وضاحت:
۱؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے، جو بعض لوگ قبر پر لگاتے ہیں، اور جس میں میت کے اوصاف اور تاریخ وفات درج کئے جاتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا کہ مراد اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھنا ہے یا قرآن مجید کی آیتیں وغیرہ لکھنا ہے، کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ یا پیشاب وغیرہ کر دیتے ہیں جس سے ان چیزوں کا استخفاف لازم آتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (970)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2274، 2796) (صحیح) »
حدیث نمبر: 3227
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ یہود کو غارت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجنائز / حدیث: 3227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (437) صحيح مسلم (530)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصلاة 54 (437)، صحیح مسلم/المساجد 3 (530)، سنن النسائی/الجنائز 106 (2049)، (تحفة الأشراف: 13233) ، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/246، 260، 284، 285، 366، 396) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔