حدیث نمبر: 3218
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي هَيَّاجٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَلِيٌّ ، قَالَ لِي : " أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! أَنْ لَا أَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں` مجھے علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں ، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مراد کسی ذی روح کا مجسمہ ہے، اس روایت سے قبر کو اونچا کرنے یا اس پر عمارت بنانے کی ممانعت نکلتی ہے۔
حدیث نمبر: 3219
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِرُودِسَ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا ، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ، ثُمّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رُودِسُ جَزِيرَةٌ فِي الْبَحْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں` ہم سر زمین روم میں رودس ۱؎ میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا ، پھر وہ ( دفن کے بعد ) برابر کر دی گئی ، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اسے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اسکندریہ کے سامنے ایک جزیرہ ہے۔
حدیث نمبر: 3220
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، قَالَ : دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ ، لَا مُشْرِفَةٍ وَلَا لَاطِئَةٍ ، مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ " ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ : " يُقَالُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قاسم کہتے ہیں` میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اماں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں میرے لیے کھول دیجئیے ( میں ان کا دیدار کروں گا ) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھول دیں ، وہ قبریں نہ بہت بلند تھیں اور نہ ہی بالکل پست ، زمین سے ملی ہوئی ( بالشت بالشت بھر بلند تھیں ) اور مدینہ کے اردگرد کے میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں ۔ ابوعلی کہتے ہیں : کہا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہیں ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے پاس ہیں ، اور عمر رضی اللہ عنہ آپ کے قدموں کے پاس ، عمر رضی اللہ عنہ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں کے پاس ہے ۔